پیکا قانون صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے، اس حوالے سے تازہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ 2016 میں منظور کیا جانے والا الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون (پیکا) انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے وعدے کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا، تاہم ایک دہائی بعد یہ قانون مختلف حکومتوں کے ادوار میں تبدیل ہو کر ایک کثیر جہتی ڈیجیٹل کنٹرول کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔