پاکستان کی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے سامان کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے، ہم فوری طور پر آبنائے ہرمز کے فوری کھولنے کے مطالبے سے متفق ہیں۔ہفتہ وار پریس بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کال کے بعد شروع ہوئے، دونوں فریقین نے پاکستان کی کال کا پاس رکھا، مذاکرات کے بعد بھی سہولت کاری اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مذاکرات کا سلسلہ رُکا نہیں بلکہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم فریقین کی جانب سے ہم پر کیے گئے اعتماد کے باعث مذاکرات و تجاویز کی تفصیلات پر بات نہیں کرتے۔ ہم معاملے پر فریقین سے رابطے میں ہیں، مذاکرات کے حوالے سے نئی اور پرانی تجاویز سب میز پر ہیں، امید ہے کہ امن کا بول بالا ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر میرا بیان ایک جنرل سینس میں تھا، یہ امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر الزامات کے حوالے سے نہیں تھا، ارومچی بات چیت میں ترجیحی ایجنڈا پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنا تھا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی اور مقبوضہ لداخ میں نئے اضلاع کے فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، بھارت کے مقبوضہ لداخ یا جموں و کشمیر کے اسٹیٹس میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کو معمول کی جنگ بندی کے طور پر نہیں لینا چاہیے، کیونکہ اس سے مراد افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی نہ ہونے دینا ہے۔