Official Website

سپریم کورٹ کا بلدیاتی حکومتوں کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ

60

سپریم کورٹ میں بلدیاتی اداروں کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے لوکل گورنمنٹس کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے حکم ناموں کی مصدقہ نقول طلب کر لیں اور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت اور سرکاری حکام کے جمع تحریری جوابات بھی طلب کرلیے۔عدالت عظمیٰ نے چیف سیکرٹری پنجاب، سابق چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔سپریم کورٹ کے باہر میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نمائندگان نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، سپریم کورٹ نے آج تاریخی حکم دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کی بحالی سے انکار کیا تھا اور چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے جو تاخیر کا ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، ہم چیف سیکرٹری پنجاب کے دفتر کے باہر بیٹھے رہے مگر انھوں نے ملاقات نہیں کی تھی۔میئر راولپنڈی سردار نسیم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ہمارے فنڈز ایم این ایز اور ایم پی ایز کو دیئے، بلدیاتی اداروں کو بحال نہ کرنے کے ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب ہیں، کیونکہ مسلم لیگ ن سمیت مختلف جماعتوں سے بلدیاتی نمائندگان منتخب ہوئے تھے۔