Official Website

وزیرقانون نے نئے آرڈیننس میں چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار بتادیا

11

وزیرقانون بیرسٹرفروغ نسیم کا کہنا ہے کہ نئے چیئرمین نیب کی تقرری تک پرانے چیئرمین فرائض انجام دیتے رہیں گے جب کہ نئے آرڈیننس میں چیئرمین نیب کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں کی جاسکیں گی۔وزیراطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد اور بیوروکریسی ملک کا اہم ستون ہیں، کاروباری برادری اور بیوروکریسی نیب قانون سے تنگ ہو رہی تھی، عام تاثر تھا کا بیوروکریٹس اور کاروباری حضرات متاثر ہو رہے ہیں، فیصلہ ہوا ہے کہ نیب قانون میں ترامیم ہوں اور ٹیکس کا معاملہ متعلقہ فورم کو جائے، ملک بھر میں 90 نیب عدالتوں کے قیام کی سفارش کی ہے۔فروغ نسیم نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری سے متعلق آرڈیننس میں بہت سی چیزیں ہیں، بدقسمتی سے اپوزیشن نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے آرڈیننس پر سیاست کی، آرڈیننس میں صرف چیئرمین تقرری کا معاملہ شامل نہیں، ایف بی آر کے پاس بھی اختیارات ہیں، آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس کامعاملہ ایف بی آر کےپاس چلا جائےگا، چیئرمین نیب کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں کی جاسکیں گی، ضمانت کے حوالے سے اختیارات ہائیکورٹ کو دیئے جا رہے ہیںوزیرقانون نے بتایا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی صدرمملکت کریں گے، اور اس حوالے سے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ہوگی، چیئرمین نیب کے نام پر اتفاق نہ ہوا تو پارلیمانی کمیٹی بنے گی، پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے چھ، چھ ارکان شامل ہوں گے، پارلیمانی کمیٹی اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر قائم کریں گے، نئے چیئرمین کی تعیناتی کیلئے مختلف ناموں پر بھی غور ہو گا، اور نئے چیئرمین نیب کی تقرری تک پرانے چیئرمین فرائض انجام دیتے رہیں گے۔وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کنہا تھا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کا آرڈیننس لار ہے ہیں لیکن اس کا ایکٹ بھی آئے گا، اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ اگر آرڈیننس میں مزید کچھ شامل کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں۔ عمران خان اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے مشاورت نہیں کریں گے، اپوزیشن سےمشاورت ہوگی شہبازشریف سےنہیں، اپوزیشن لیڈر سے ہی مشاورت کرانی ہے تو شہبازشریف کو تبدیل کر دیا جائے، اپوزیشن جماعتیں لیڈر تبدیل کر لیں پھربات ہوسکتی ہےواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیب کو اپنا دائرہ اختیار اتنا نہیں پھیلانا چاہیے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلے کہ کیا ہورہا ہے، نیب کو بڑی مچھلیوں پر نظر رکھنی ہے، ہمارا مقصد ہے کہ نیب مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائے، ہم نے عدالتوں کی تعداد بڑھاکر ان کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا گیا ہے، پراسیکیوٹر جنرل نیب ریفرنس دائر کریں گے۔