Official Website

پاکستان پر پابندیوں سے متعلق ٹرینڈ افغانستان میں 20 سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہے: معید یوسف

8

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف ٹرینڈز سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف دانستہ طور پر جھوٹی خبروں پر مبنی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں سرِفہرست انڈیا ہے اور اب افغان حکام بھی اس میں ملوث ہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پر پابندیاں لگانے سے متعلق ٹرینڈ جعلی ہے اور اسے افغانستان کے چند ریاستی اہلکاروں کی جانب سے بھی ٹویٹ کیا گیا، جو افسوس ناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘افغانستان میں 20 سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور پاکستان پر پابندیوں سے متعلق ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں۔ یہ وہی ای یو ڈس انفو لیب کی کڑیاں ہیں جو ہمیں یہاں نظر آ رہی ہیں۔’

خیال رہے کہ گذشتہ برس یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کی رپورٹ میں گذشتہ 15 سال سے قائم انڈیا نواز نیٹ ورک پر کی جانے والی تحقیق میں یہ معلومات سامنے آئی تھیں کہ کس طرح ‘ڈس انفارمیشن’ اور ‘انفلوئنس’ آپریشن نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں اپنے جال بچھائے جس کی مدد سے ‘انڈین بیانیے کو فروغ’ اور ‘پاکستان کو عالمی طور پر بدنام’ کرنے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کے خلاف بڑے سوشل میڈیا ٹرینڈز کی معاونت انڈیا کی جانب سے کی گئی ہے اور پاکستان کے اندر جو سب سے بڑا پلیئر ہے جس نے انڈیا کی مدد کی ہے وہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ہے۔‘

انھوں نے پاکستان پر پابندیوں سے متعلق حالیہ ٹرینڈ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ‘گذشتہ کچھ دنوں سے ’سینکشن پاکستان‘ نامی ٹرینڈ میں ’20 ہزار ٹویٹس پی ٹی ایم نے کی ہیں اور کل آٹھ لاکھ ٹویٹس کی گئی ہیں‘۔

انھوں نے مزید کہا ’جس میں افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح، قومی سلامتی کے مشیر محب اللہ اور وزیرِ دفاع جنرل بسمہ اللہ محمدی نے بھی ٹویٹ کی ہیں۔‘