Official Website

خاتون جج کو دھمکی پر عمران خان کو شوکاز نوٹس، اسلام آباد ہائیکورٹ طلب

37
Banner-970×250

خاتون جج کو دھمکی پر توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔عدالت کے تین رکنی لارجر بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس محسن اختر کیانی نے کی جبکہ بقیہ دوججز میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین سے زائد ججز پر مشتمل لارجر بینچ بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیراعظم سے ایسے بیان کی توقع نہیں، خاتون جج سے متعلق عمران خان کا بیان بہت زیادہ نامناسب ہے جبکہ عمران خان عدلیہ، پولیس اور سرکاری ملازمین سب کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان نے کس کیس سے متعلق ریمارکس دیے تھے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ شہباز گل کیس میں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے ریمانڈ کے خلاف نظرثانی درخواست سنی تھی، عمران خان نے بیان کے ذریعے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جج کا نام لے کر دھمکی دی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ پورے پاکستان کی عدلیہ کے وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی، ایک خاتون معزز جج کو اس طرح مخاطب کیا گیا، وہ ہزاروں کیس سن رہی ہیں یہ بات صرف ایک خاتون جج کی حد تک نہیں ہے، جو عدالتیں آپ کے مخالف فیصلے دیں گی تو کیا ان کے خلاف تقریریں شروع کر دیں گے، جو خود وزیراعظم پاکستان رہا ہو اس کو ایسا بیان دینے کی ضرورت کیا تھی، کیا حکومت خاتون ایڈیشنل سیشن جج کو اضافی سیکیورٹی فراہم کرنے کو تیار ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے لیڈر سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی، عام آدمی کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں کہ وہ اٹھے اور اپنا انصاف خود شروع کر دے؟ یہ بہت سنگین معاملہ ہے، یہ صرف پاکستان کی عدلیہ تک نہیں ہے بلکہ یہ پیغام ہائی لیول تک ہے، یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل ہونا چاہیے۔سماعت سے قبل، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے متفرق درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں موقف اپنایا کہ عمران خان کے ویڈیو کلپس ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، اس لیے عمران خان کے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر دیے بیانات کی ویڈیوز بھی ریکارڈ پر لانے کی اجازت دی جائے۔متفرق درخواست میں کہا گیا کہ عدالت کے لیے یہ بیانات فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، عمران خان کے عدلیہ متعلق بیانات کو کمرہ عدالت میں چلانے کی اجازت دی جائے۔واضح رہے کہ عمران خان نے اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں شہباز گل کی رہائی کے لیے منعقدہ ریلی میں خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کی مقامی عدالت کی مجسٹریٹ زیبا چوہدری، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تمھیں دیکھ لیں گے اور تمھارے خلاف کارروائی کریں گے‘۔