Official Website

خیبر پختونخوا سرکاری کالجوں کو ٹرانسپورٹ سہولت دینے کا آغاز

46
Banner-970×250


ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مستحکم کرنے اور طلبہ سمیت تدریسی عملے کو سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک اہم پیشرفت کے طور پر خیبرپختونخوا حکومت نے ان اضلاع کے سرکاری کالجوں کو ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر ضم اضلاع کے 45سرکاری کالجوں کو ہائیس گاڑیاں فراہم کی گئیں جبکہ اگلے مرحلے میں ان کالجوں کو بسیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ ان کالجوں کو گاڑیوں اور بسوں کی فراہمی کے منصوبے پر 1.18 ارب روپے لاگت آئے گی، جس سے 232 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے۔ ضم اضلاع کے کالجوں کو گاڑیوں کی فراہمی کے سلسلے میں ایک تقریب بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ محمود خان تھے۔ وزیراعلیٰ نے ان کالجوں کے پرنسپل صاحبان کو نئی ہائیس گاڑیوں کی چابیاں حوالے کیں۔ ان کالجوں میں 24 بوائز کالجز، 15 گرلز کالجز اور چھ کامرس کالجز شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت ضم اضلا ع میں نئے قائم کئے جانے والے کالجوں کو بھی مزید دس گاڑیاں اور بسیں فراہم کی جائیں گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے فروغ کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا اہم جز قرار دیتے ہوئے کہاکہ حکومت ضم اضلاع کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے بھی خصوصی توجہ دے رہی اور اس مقصد کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 17 ارب روپے مالیت کے متعدد اہم منصوبے شامل کئے گئے ہیں جن کی تکمیل سے علاقے کے عوام کو اعلیٰ تعلیم کی بہترین سہولیات ان کے گھر وں کی دہلیز پر فراہم ہونگی۔ جن میں 12نئے ڈگری کالجوں کا قیام، پہلے سے موجود کالجوں کی بحالی اور ناپید سہولیات کی فراہمی، بی ایس پروگرام کا اجراء، طلبہ کو سکالر شپس کی فراہمی، کالجوں کی سولرائزیشن، تدریسی عملے کی بھرتی، کالجوں کو ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے قبائلی اضلاع کے عوام کو اعلیٰ تعلیم کی جدید سہولیات ان کے گھروں کی دہلیز پر فراہم ہونگی۔ باجوڑ میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں فیزیبل جگہوں پر میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی جبکہ جنوبی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کے قیام پر پیشرفت جاری ہے جبکہ اگلے تعلیمی سال سے ضم اضلاع میں 10 نئے کالجوں کو فعال کیا جائے گا۔ سابقہ قبائلی علاقوں کی صوبے میں انضمام کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو فاٹا انضمام کا بڑا چیلنج درپیش تھا لیکن صوبائی حکومت تمام شراکت داروں کے تعاون سے انضمام کا سارا عمل ساڑھے تی سال کے کم عرصے میں کامیابی سے مکمل کیا اب سابقہ قبائلی علاقے صوبے کا حصہ ہیں اور حکومت ان علاقون کی تیز رفتاری ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے اس مقصد کے لئے دس سالہ ترقیاتی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت اگلے دس سالوں تک قبائلی اضلاع کو ترقی دینے کے لئے خصوصی اور تیز رفتار اقدامات کئے جائیں گے تاکہ دہائیوں پر محیط ان علاقوں کی محرومیوں کا جلد ازالہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت ان کے محرومیوں کے ازالے اور انہیں ترقی کے میدان میں آگے لانے کے لئے تمام ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر کامران بنگش نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب سے سیکرٹری اعلیٰ تعلیم محمد داؤد خان نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف کے علاوہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور ضم شدہ اضلاع کے کالجوں کے پرنسپل صاحبان اور دیگر عملے نے تقریب میں شرکت کی۔