Official Website

نری پنوس میں عوامی خدشات دور کیے جائیں

اداریہ

64
Banner-970×250

کاغذی کاروائی موجودہ قیادت کی دعویداری کو مد نظر رکھتے ہوئے تو ضلع بھر میں سینکڑوں کلو میٹر روڈز تعمیر ہو گئے، اور ہو رہے ہیں، لیکن حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو پھر تحصیل کرک اور بانڈہ داؤد شاہ کی جملہ سڑکیں کھڈرات کا منظر پیش کر رہی ہین، بد نام نری پنوس روڈ کی تعمیر گزشتہ دو ادوار حکومت کے بعد اس حکومت کے جاتے دنوں تک تعمیر نہ ہو سکی۔ نہ صرف برس با برس سے یہ سڑک بانڈہ کے عوام کا ضلعی ہیڈ کوارتر سے رابطہ منقطع رکھنے کا باعث بنا ہواہے۔اور اور ایک تواتر کے ساتھ نری پنوس کے عوام اس روڈ کی تعمیر میں کام سست روی کا شکار کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام میں ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات بھی موصول ہوئی ہے، لیکن عوامی شکایات تو چوڑ روڈ اور دیگر تعمیراتی کاموں میں ناقص میٹریل کے استعمال کے حوالے سے ا یم پی ایز تک کے تحریری خطوط ردی کے ٹھوکری کی نذر ہو جاتی ہے اور پھر اس حولاے سے عام آدمی کی بات تو اگر نہ ہی کی جائے تو بہتر رہے گا۔ تاہم یہ بات ضروری ٹہری کے ایک عرصہ سے مسلسل اور تواتر کے ساتھ اس حوالے سے عوام علاقہ کا رد عمل سامنے آنا شروع ہو گیا اور اس مین ایسے حکومتی پارٹی کے ورکرز بھی شامل ہین کہ جن کا عملی سیاست میں مفادات کیلئے دوڑ دھوپ کی تو کوئی ریکارڈ نہیں ہوتی ہے، مگر ووٹ وہ خان کے وژن کو دیتے ہے جو کہ تحریک ہی کے مقامی قائدین کے کر دار کو متنازعہ بنانے کیساتھ ساتھ پارٹی کیلئے مشکلات کا باعث بنیں گے اور الیکشن کے بعد ہندو یا تریوں اور آئے روز کے گیس بجلی کے حوالے سے جلسے جلوسوں کے جنجٹ سے نجات حاصل سے سٹے پٹے تھکی ہوئی فورس اور انتظامی مشنری کیلئے دھرنا ٹائپ کے کسی احتجاج کی صورت میں مزید مسائل کا باعث بنے گا، لہٰذا حکومت اوعر انتظامی مشنری کی ذمہ داری بنتی ہے، کہ وہ حالات کا اس پہنچ تک پہنچنے سے قبل ہی قابو میں کر لیں اور متاثرہ عوام کی فریاد سنیں اورک وشش کرین کہ اس حوالے سے عوامی شکایات کا آزالہ کریں اور تعمیراتیی کام کے حوالے سے عوامی خدشات کو دور کریں اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو عین دوران انتخٓبات کے جبکہ بانڈہ ہی نہین نری پنوس مین ری پولنگ بیھ ہونی ہے، تو نہ صرف حکومتی پارٹی کو ووٹ کی صورت میں نقصان پہنچائے گی اور اگر خدانخواستہ خدشات درست ہے تو پھر اس اقدام سے حکومتی خزانے کو بھی نقصان پہنچانے کا اندشہ ہے، لہٰزا سی اینڈ ڈبلوی حکام اس حوالے سے ایکشن میں آگر عوام کو آگاہ کرائیں۔