Official Website

کروڑوں روپے کے بوگس انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی شروع

132
Banner-970×250

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب نے بوگس ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کروڑوں روپے کے بوگس انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے والے ایف بی آر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو کروڑوں روپے مالیت کے بوگس انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ایف بی آر کے دو سابق ممبران سمیت چار بڑے ٹیکس افسران کے خلاف انضباطی اور کریمنل کارروائی کرنے کی سفارش کردی ہے۔ اور اپنے آرڈر میں کہا ہے کہ ایف بی آر کے فیلڈ افسران اور پرال کے حکام بھی غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔وفاقی ٹیکس محتسب نے بوگس ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایف بی آر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی جانب سے جاری کردہ آرڈر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل اینٹلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر کی جانب سے بوگس ریفنڈز کے کیسوں میں ایف بی آر کے متعلقہ فیلڈ فارمشنز کو ریڈ الرٹ جاری کئے گئے تھے، مگر متعلقہ فیلڈ فارمشنز نے نہ تو جعلی انکم ٹیکس ریفنڈز کلیم کرنے والوں اور فیلڈ فارمشنز میں ان کے سہولتکاروں کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی جو بوگس رجسٹریشن، پروسیسنگ اور فراڈ کے ذریعے انکم ٹیکس ریفنڈز منظور کرنے اور ریفنڈز کے اجراء کیلئے چیک جاری کرنے میں ملوث تھے، نہ ہی متعلقہ فیلڈ فارمشنز نے متعلقہ بینکوں کے برانچز کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی تجویز کی، اور نہ ہی پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال)کے ذمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی تجویز کی۔وفاقی ٹیکس محتسب نے جاری کردہ اپنے آرڈر میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور اپنے آرڈرز میں ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں روپے مالیت کے اس جعلی انکم ٹیکس ریفنڈ اسکینڈل میں ایف بی آر کے اس وقت کے ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو چوہدری محمد طارق جو کہ بعد میں ممبر ایف بی آر ان لینڈ ریونیو بھی تعینات رہے، ان کے علاوہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو (ڈی سی آئی آر) اشفاق احمد ملوث ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان افسران کے خلاف انضباطی اور کرئیمنل کاروائی شروع کرے، اس کے علاوہ ان افسران سے ٹیکس ایئر 2007، ٹیکس ایئر 2008 اور ٹیکس ایئر 2009 کیلئے پیدا کردہ ٹیکس ڈیمانڈ کی رقم بھی ریکور کی جائے۔وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے آرڈر میں مزید سفارش کی ہے کہ اس وقت کے چیف کمشنر کارپوریٹ ٹیکس آفس لاہور ڈاکٹر سرمد قریشی اور اس وقت کے چیف کارپوریٹ ٹیکس آفس لاہور(جو کہ بعد میں ممبر ایف بی آر تعینات ہوئے) کے خلاف بھی انضباطی کاروائی شروع کی جائے۔ وفاقی ٹیکس محتسبب نے اپنے فیصلے میں ایف بی آر سے کہا ہے کہ انکم ٹیکس اور ریفنڈ فراڈ پر ایکشن لیا جائے۔وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے آرڈر میں افسران کا نام لے کر تادیبی ایکشن کی سفارش کی ہے ایف ٹی او کا کہنا ہے کہ ان افسران نے 12 کروڑ 33 لاکھ کا جعلی ریفنڈ جاری کیا۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے آرڈر میں کہا ہے کہ ریفنڈ لینے والی کمہپنیوں کے نام بھی ریڈ الرٹ میں بتائے گئے مگر محکمے نے کوئی ایکشن نہ لیا اس لئے مجرمانہ غفلت برتنے والے افسران کو برخواست کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، ایف ٹی او کا اپنے آرڈر میں کہنا تھا کہ یہ فراڈ 2007 تا 2011 ہوتا رہا اس لئے ایف بی آر کے فیلڈ افسران اور پرال کے حکام نے بھی غفلت کے مرتکب ہوئے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے لاہور کے ٹیکس کمشنر اور ماتحت افسران کو نوکری سے نکالنے کی سفارش کردی ہے، ان افسران کے خلاف انکم ٹیکس کی چوری میں تعاون کرنے کا بھی الزام ہے۔