Official Website

بلدیاتی الیکشن میں شکست: پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل، آئینی کمیٹی تشکیل

52
Banner-970×250

وزیراعظم نے ملک بھر میں تحریک انصاف کی تمام تنظیمیں تحلیل کر دی ہیں، آئینی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، آئندہ مقامی قیادت کسی امیدوار کے رشتہ دار کی نامزدگی کا فیصلہ نہیں کرے گی جبکہ عمران خان نے آئندہ ٹکٹوں کی خود تقسیم کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمان کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پنجاب سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، گورنر پنجاب چودھری سرور، وزیر بلدیات محمود الرشید، سینیٹر سیف اللہ نیازی، عامر کیانی، وفاقی وزراء فواد چودھری، حماد اظہر، شفقت محمود، خیبرپختونخوا سے وزیر اعلیٰ محمود خان، اسد قیصر، پرویز خٹک، مراد سعید سمیت پارٹی کے سینئر رہنما اور دونوں صوبوں کی اہم قیادت بھی اجلاس میں موجود تھی۔اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور پنجاب و خیبر پختون خواہ کے بلدیاتی انتخابات پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق پنجاب اور کے پی کے کی سیاسی صورتحال پرغور کیا گیا جبکہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے انتظامی امور پر بھی بریفنگ دی گئی، نیز خیبر پختونخوا کے انتخابی نتائج سے متعلق رپورٹ کا جائزہ بھی لیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اور آئندہ انتخابات کیلئے پارٹی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے کر لئے گئے۔ وزیراعظم نے وزیر اعلی کے پی محمود خان کو صوبے میں پارٹی کارکنان کو منظم کرنے کی ہدایت کر دی۔ذرائع کے مطابق پارٹی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مختلف حکومتی منصوبوں میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، الیکشن کمیشن تمام ڈیٹا اکٹھا کر لے پھر بلدیاتی انتخابی نتائج پر پارٹی موقف دیا جائے۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں سابقہ غلطیاں نہ دہرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں کی ٹکٹس کا خود جائزہ لیکر فیصلہ کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت ہے، آج کل دوبارہ نوازشریف کی نااہلی کو چیلنج کرنے کی باتیں چل رہی ہیں، نوازشریف نے ملک لوٹا اور اعلی عدالتوں سے نااہل ہوئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی حکمت عملی طے کر لی ہے، آئندہ انتخابات کے لیے حکمت عملی مرحلہ وار ہو گی، پہلے مرحلے میں 21 ارکان پر مشتمل قائم سیاسی کمیٹی کو بااختیار بنایا جائے گا، دوسرے مرحلے میں تنظیمیں تحلیل کی جائیں گی، تحریک انصاف کی سپریم کمیٹی بھی نئے سیاسی پلان کے تحت تشکیل دی گئی، سپریم کمیٹی 21 ارکان پر مشتمل ،صوبوں کو نمائندگی دی گئی، سیاسی کمیٹی نئی تنظیم سازی اور پارٹی کو متحرک کرنے پر کام کرے گی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سپریم سیاسی کمیٹی کے سربراہ ہیں، پنجاب سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، گورنرچوہدری سرور، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، عامر محمود کیانی، سیف اللہ نیاری خیبر پختونخوا سے وزیراعلیٰ محمود خان، پرویز خٹک، اسد قیصر، علی امین گنڈا، سندھ سے اسد عمر، عمران اسماعیل، علی زیدی، بلوچستان سے قاسم سوری، گورنر آغا ظہور جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، اعجاز چودھری اور شیریں مزاری کو بھی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے۔بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم کو خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پرویز خٹک سے بلدیاتی انتخابات پر بات ہوئی، وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، اس بات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا کہ ٹکٹ خاندانوں میں بانٹے گئے، خیبرپختونخوا کے انتخابات میں جیسے نتائج ملنا چاہیے تھے نظر نہیں آئے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے بطور چیئرمین پی ٹی آئی فیصلہ کیا ہے کہ مرکز سے لے کر تحصیلوں تک پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کردی جائیں، تمام پارلیمانی بورڈ بھی تحلیل کردیے گئے ہیں، چیف آرگنائزر سمیت تمام عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف کی ایک نئی 21 رکنی آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، فوادچودھری ، سیف اللہ نیازی، اسدعمر ، عثمان بزدار ، عمران اسماعیل اور علی زیدی شامل ہیں، کمیٹی آئین پر کام کرے گی اور وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی، اس کمیٹی کے ذریعے نئی تنظیم سازی کی جائے گی، جس کے بعد نیا اسٹرکچر تشکیل دیا جائے گا، پنجاب کے مقامی حکومتوں کے انتخابات کی ٹکٹوں کا معاملہ بھی یہی کمیٹی دیکھے گی، جبکہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کے پی کو دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی ایک خاندانی سیاست والی جماعت نہیں ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا کلچر پی ٹی آئی میں آجائے تو پھر ان میں اور ہم فرق نہیں رہے گا۔