Official Website

پولیس شہریوں کی قاتل بن گئی، ایک اور جعلی مقابلے میں محنت کش قتل

41
Banner-970×250

کراچی: پولیس نے ایک اور جعلی مقابلے میں محنت کش قتل کر دیا گیا۔کورنگی انڈسٹریل ایریا کے علاقے مہران ٹاؤن سیکٹر 6 ایف میں ہفتہ کی شب فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 33 سالہ واصف ریاض ولد ریاض خان کے قتل کا مقدمہ کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کے 3 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ اسی تھانے میں درج کر لیا گیا، مقدمہ مقتول کے بھائی کاشف ریاض کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔کاشف ریاض نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ مقتول مکان نمبر 51 مہران ٹاؤن سیکٹر 20 ایف کورنگی کا رہائشی تھا، مقتول گھگھر پھاٹک کے قریب کین وڈ کمپنی میں ملازم تھا، کمپنی کی گاڑی کورنگی کراسنگ تک آتی ہےہفتے کی شب واصف کمپنی سے کام ختم کر کے کورنگی کراسنگ سے چنگ چی میں گھر آرہا تھا ، چنگ چی کے اسٹاپ سے اتر کو وہ جیسے ہی گھر کے قریب گلی کے کونے پر پہنچا تو دو موٹرسائیکلوں پر موجود اہلکاروں میں سے ایک نے فائرنگ کر دیا جس کے نتیجے میں واصف زخمی ہو گیا۔انھوں نے بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے بعد ایک موٹرسائیکل پر سوار 2 اہلکار موقع سے فرار ہوگئے، اسی دوران کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کی پولیس موبائل موقع پر پہنچ گئی، مشتعل افراد کو منتشر کر کے زخمی واصف اور تیسرے اہلکار کو اپنے ساتھ لے گئے۔علاقہ مکین موبائل کے پیچھے گئے تو دیکھا کہ زخمی کو اسپتال لے جانے کے بجائے کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں لے گئے جس کی اطلاع ملنے پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی جس پر تھانے کا گیٹ بند کر لیا گیا، شورشرابہ کرنے پر پولیس نے علاقہ مکینوں پر لاٹھی چارج کیا۔اسی دوران اطلاع ملنے پر پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض، متحدہ قومی موومنٹ کے غلام جیلانی، رکن قومی اسمبلی فہیم خان اور مسلم لیگ فنکشنل کے علاقائی صدر و کارکنان کی بڑی تعداد تھانے پہنچ گئی۔ایم پی اے راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ان کے کہنے پر بھی تھانے کا گیٹ نہیں کھولا گیا تاہم کارکنان کو دیکھ کر رکن اسمبلی اور واصف کے بھائی کو تھانے میں آنے کی اجازت دی گئی جہاں دیکھا گیا کہ ایدھی ایمبولینس میں واصف کی خون میں لت پت لاش رکھی ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بھائی کو بروقت اسپتال لے جایا جاتا تو شاید وہ بچ جاتا۔کورنگی مہران ٹائون میں ہفتے کی شب تقریباً9 بجے جعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے واصف ریاض کی لاش واقعے کے تقریباً 4 گھنٹے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال لائی گئی، لاش اسپتال کے مردہ خانے میں ایک گھنٹے تک رکھی رہی جب ایم ایل او نہیں پہنچا تو وہاں موجود شہری مشتعل ہوگیا جس کے بعد ایم ایل او مردہ خانے پہنچا تو رکن قومی اسمبلی فہیم خان نے انھیں لاش کے بے حرمتی کرنے پر شرم کا احساس دلانے کی کوشش کی۔پوسٹ مارٹم کے بعد ایم ایل او ڈاکٹر کامران نے بتایا کہ واصف کے عقب میں پیٹ پر ایک گولی لگی تھی جو سینے سے باہر نکلی گولی زیادہ فاصلے سے نہیں ماری گئی اور نہ ہی نالی رکھ کر گولی ماری گئی ، عقب سے گولی لگنے پر واصف سامنے کے طرف گرا جس سے اس کی چہرے پر چوٹ لگی ، جسم پر تشدد کے کوئی نشانات موجود نہیں ہیں ، پوسٹ مارٹم کے فوری بعد ایس ایس پی کورنگی آفس سے فارنزک آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے ٹیم پہنچ گئی جہاں کرائم ریکارڈ چیک کرنے کے لیے مقتول کے انگوٹھے کے نشانات لیے گئے ، آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے نمائندے کے مطابق مقتول واصف کا کوئی کرمنل ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ہفتہ کی شب کورنگی کے علاقے مہران ٹائون میں پولیس اہلکاروں نے جعلی مقابلے میں واصف نامی نوجوان کو شہید کردیا تھا ، واصف وقوعہ کے وقت اپنے آفس سے گھر واپس آرہا تھا اور معمول کے مطابق اپنی والدہ کو فون کیا۔اس نے بتایا کہ ماں آپ کھانا تیار رکھیں بس میں تھوڑی دیر میں گھر پہنچنے والا ہوں ، معمول کے مطابق اہلیہ سے بھی موبائل پر گفتگو کی تو اہلیہ نے بتایا کہ اس کی چھوٹی بیٹی کے لیے دودھ ضرور لیتے ہوئے گھر آئیں جس پر اس نے حامی بھرلی لیکن کسی کو کیا خبر تھی کہ اپنے محلے میں اشیائے ضروریہ خریدتا ہوا واصف اب کبھی بھی گھر زندہ حالت میں نہیں پہنچ سکے گا۔واصف کے بھائی کاشف نے بتایا کہ کاشف کی نماز جنازہ سیکٹر ایف سکس مہران ٹائون میں گھر کے قریب ہی واقع مسجد میں ادا کی گئی جس کے بعد اسے کورنگی ڈیڑھ نمبر پر چکرا گوٹھ میں قائم قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ، واضح رہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملوث اہلکاروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔محنت کش واصف 2 بچوں کا باپ اور پنج وقتہ نمازی تھاکورنگی مہران ٹائون میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا شخص 2 بچوں کا باپ اور پنج وقتہ نمازی تھا، تفصیلات کے مطابق کورنگی مہران ٹائون میں ہفتے کی شب تقریباً 9 بجے جعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے واصف ریاض ولد ریاض کا ایک ڈھائی سال کا بیٹا اور ایک تین ماہ کی بیٹی تھی ۔یہ بات مقتول کے چچا محمد نسیم خان نے بتایا ، انھوں نے بتایا کہ پورا محلہ جانتا ہے کہ واصف پنج وقتہ نمازی تھا اور اس کا کبھی علاقے میں کسی سے جھگڑا یا کوئی اختلاف نہیں ہوا۔انھوں نے چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں ظلم بند کرایاجائے،واقعے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا جائے بلکہ ان کی جائیداد ضبط کر کے مقتول کے اہلخانہ کے حوالے کی جائے،متاثرہ شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔