Official Website

وفاقی وزیراسد عمر نے سندھ حکومت کے نئے بلدیاتی نظام کو مسترد کردیا

53
Banner-970×250

کراچی: وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمرنے سندھ حکومت کے بلدیاتی نظام کوعوام سے دھوکہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور کہاہے کہ سندھ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اس کیخلاف تحریک چلائیں گے۔تحریک انصاف ضلع وسطی کے تحت حیدری میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسدعمر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے کارکن کراچی میں تبدیلی کے سفر کا ہر اول دستہ ہوں گے، عمران خان نے کراچی سے صدر پاکستان اور گورنر سندھ بنایا، کراچی کو دو بڑی وزارتیں اور 14 ایم این اے دیئے، کراچی کے کارکن نوکری نہ مانگیں یہ تو نوکری دینے والے ہیں، عمران خان کی جدوجہد طبقاتی نظام کے خلاف ہے، کراچی کی نوکریاں کراچی میں دلوانے کی ذمہ داری مقامی قیادت پر ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں جعلی مقامی حکومت کے لیے بلدیاتی نظام کا اعلان کیا گیا، گرین لائن بس منصوبے پر 10 ، 12 روزکا باقی کام ہے، اگلے دو ہفتوں بعد دسمبر میں عمران خان کراچی میں جدید اور پہلے ٹرانسپورٹ منصوبے کا افتتاح کریں گے۔اسد عمر نے کہا کہ مردم شماری کراچی کا دیرینہ مطالبہ رہاہے، کراچی کی آبادی مردم شماری میں دکھائی نہیں دیتی، پچھلی حکومتوں نے 19 سال اور 17 سال کے وقفے سے مردم شماری کرائی تھی، ہم نے روایات کو توڑتے ہوئے آئندہ مردم شماری پانچ سال کے وقفہ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کراچی میں مردم شماری ہوگی جس کے بعد کراچی کا دیرینہ گلہ اورکراچی سے ناانصافی ختم ہوگی، تحریک انصاف اور اتحادیوں نے مردم شماری کی منظوری دلوائی ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ کراچی کے لیے مقامی حکومت کا نظام عوام کو بااختیار نہیں کرتا، تحریک انصاف نے پٹیشن داخل کی اس نظام کے لیے، وزیر اعظم نے اور میں نے دستخط کرکے یہ پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل کی ہے، سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پٹیشن پر جلد از جلد سماعت مکمل کرے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے نئے بلدیاتی نظام میں سندھ میں رہے سہے اختیارات بھی چھین لیے گئے، کراچی کے عوام کو رہے سہے اختیارات سے بھی محروم کردیا گیا ہے، سندھ میں جو نظام چل رہا ہے وہ بہتر نہیں ہے، سندھ کے عوام کو قانون کے تحت بااختیاربنانا ہوگا، سیاسی اور قانونی طور پر قانون کے مطابق اختیارات ملنا چاہئیں، اسلام آباد میں صحت اور تعلیم اور ترقیاتی کام میئر چلائے گا اور دیگر شعبے بھی مئیر کے ماتحت ہوں گے جب کہ کراچی میں ایسا نظام نہیں ہے، تعلیم، صحت اور دیگر کچھ نظام نہیں ہے اس کو مسترد کرتے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ مقامی نظام حکومت کے اوپر دھوکہ ہونے جارہاہے اس کے خلاف تحریک چلانا ہے، کراچی کے عوام اپنا حق مانگ رہے ہیں،نظام کے نام پریہ مذاق اب سندھ کے عوام کے ساتھ نہیں ہوگا، ظلم نہیں ہونے دیں گے اور کراچی کو اپنا حق دلا کر رہیں گے، اسلام آباد کے نئے بلدیاتی نظام میں مئیر کو بااختیار کیا گیا، سندھ میں اس کے برعکس کام کیا جارہا ہے، ٹرانسپورٹ،پانی، سڑکیں، مئیر کے ماتحت ہونی چاہئیں میں اپنے کراچی کے منتخب نمائندوں سے کہتا ہوں سندھ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اس کیخلاف تحریک چلائیں،کراچی کے لوگ بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں،یہ ناانصافی،ظلم کراچی کے ساتھ برداشت نہیں کیا جائے گا۔