Official Website

سٹی کے پانی کا مسئلہ

اداریہ

13

پانی کی فراہمی کے نام پر کرک سٹی کو اب تک اربوں روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں مگر اب تک کرک سٹی کے عوام کو ایک بوند کی فراہمی تودور کی بات بلکہ اس جدید دور میں بھی تیل گیس ا±گلتی سرزمین کے ضلعی ہیڈکوارٹرکرک سٹی میں عوام علاقہ کو زندہ رہنے کیلئے پانی خریدنے پر مجبورہیں اگر دیکھاجائے توپھر ذیبی ڈیم واٹرسپلائی سکیم سے لیکر تاحال تک جتنے بھی سکیمز منظورہوئے تھے سب کے سب غائب ہوچکے ہیں اور ا±ن کے غائب ہونے کے باوجود بھی بعض اداروں میں توباقاعدگی سے ا±س کے عوض سرکاری خزانے سے رقم بھی خرچ کی جاتی رہی ہے اب حال ہی کی بات ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ نے کرک سٹی کو ذیبی ڈیم لائن سے پانی فراہمی کی یقین دھانی کرائی تھی مگر تاحال تک چھ مہینے گزرجانے کے باوجود بھی نہ تو سٹی کو پانی فراہم ہوسکی نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی اقدام ا±ٹھایاگیا موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سال کے عرصہ میں بلکہ گذشتہ دور حکومت میں بھی کرک سٹی کے عوام کو اے ڈی پی کے لولی پاپ پر ٹرخایاجاتاہے اور عوام کو بجائے پانی کی فراہمی کے ا±نکو بلاوجہ کے مسائل میں ا±لجھاکرسیاست کی جاتی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سٹی کے عوام ایک ہی مطالبہ کرلیں کہ بس ہمیں نہیں چاہئے پانی ا±س وقت تک جب تک ابتک سٹی کو فراہمی آب کی فراہمی کے نام پر فراہم کئے گئے فنڈز کی تحقیقات نہیں کی جاتی عوام کو بھی چاہئے کہ وہ مزید پانی مانگنے کے اپنے مطالبہ کو اپنے نام پانی کے اڑمیں کھائے گئے فندز کی تحقیقات میں تبدیل کردیں اگر ہم نے اسی طرح آگے دور اور پیچھے چھوڑکی یہ کہانی بھ دہرائی تو عشروں قبل ہی حالات سے بھی بدترصورتحال کا سامنا ہوگا کیونکہ کرک سٹی میں زیرزمین پانی کی سطح مسلسل نیچی گرنے کیساتھ ساتھ پانی کڑوابھی ہورہاہے آج اگر ہم پانی خریدنے پر مجبورہیں تو مستقبل کے حالات ا±س بھی بدترہونگے لہذا سٹی کے عوام کو اپنے رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے