Official Website

سانحہ اے پی ایس؛ کوئی مقدس گائے نہیں، عدالتی حکم پر کارروائی کریں گے، وزیراعظم

28

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، عدالت جس کے خلاف بھی حکم دے گی کارروائی کریں گے۔چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کی سماعت کی جس میں عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر عمران خان کچھ ہی دیر بعد عدالت میں پیش ہوئے۔عمران خان نے روسٹرم پر آکر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیے تھا، ہمارا نائن الیون سے کوئی تعلق چیف جسٹس نے پوچھا کہ ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟۔ وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو آپ اقتدار میں ہیں، مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟۔ ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ یہ بتائیں کہ سانحہ کے بعد اب تک کیا اقدامات اٹھائے؟وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اے پی ایس واقعے کے بعد ہم نے بہت سے اقدامات کئے اور نیشنل ایکشن پلان بنایا، نیشنل انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی، اب ایک مرتبہ پھر دہشتگردی بڑھ رہی ہے، گزشتہ ایک ماہ میں سو سے زائد سیکورٹی افراد مارے گئے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان محفوظ ملک نہیں۔ عمران خان نے جواب دیا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل تک ہمیں مسائل رہیں گے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشکلات کو سمجھتے ہیں، گزشتہ عدالتی حکم میں 7 افراد کے نام دیئے تھے، ان افراد کا خاص کردار بنتا ہے، عدالت چاہتی ہے کہ والدین کی تسلی کیلئے خاص اقدامات کئے جائیں، والدین چاہتے ہیں کہ اس وقت کے اعلی حکام کیخلاف کارروائی ہو۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، عدالت جس کے خلاف بھی حکم دے گی کارروائی کریں گے، میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، عدالت حکم دے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے والوں کا بھی تعین کیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں اپ ہر طرح کا اقدام کر سکتے ہی، تاریخ میں بہت سے بڑے عہدیداران کا ٹرائل ہوا ہے، آپ حکومت میں ہیں، آپ یہ کام کریں کوئی آپکو نہیں روکے گا۔جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ آپ حکومت میں ہیں، آپکی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے والدین کی داد رسی کریں، ہر شہید ہونے والا ہمارا ہیرو ہے، ہمارا نقصان ہوا ہے وفاقی حکومت نے جو کارروائی کرنی ہے کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں بچوں کے والدین سے کئی دفعہ مل چکا ہوں، میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس جنگ میں 80 ہزار شہید ہونے والے افراد کے ذمہ داروں کا بھی تعین کریں، ان 80 ہزار شہداء کے بھی والدین تھے، انکا بھی دکھ اتنا ہی ہوگا، ہمارا اتحادی ہمارے اوپر ڈرون حملے کرتا رہا۔
نہیں تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون اور دشمن کون۔