Official Website

کرک کے یوٹیلٹی سٹورز عوام کو سہولت دینے میں نا کام ہے

اداریہ

19

کرک میں یوٹیلٹی سٹورز سے عوام کو کسی قسم کی کوئی ریلیف نہیں مل رہی ہے، اُلٹا مہنگائی کے ستائی ہوئی عوام کو سبڈائز اشیائے خوردنوش کے ساتھ ساتھ بر سوں پُرانے غیر ضروری اور نا قص معیار کے سامان کو بھی دیا جاتا ہے، جس سے بچت ختم ہو جاتی ہے، اور عوام کو لمی قطاروں میں دن بھر خوار ہونے کے بعد کچھ بھی ہاتھ نہیں لگتا، اُلٹا ان کو بدلے میں زلالت ملتی ہے، علاوہ ازیں زیادہ تر سامان یا تو سٹور اہلکار چا چا، کا کا کی نظر کر دیتے ہے، بعض مقامات پر تو سرکاری سبڈائزڈ گھی ، چینی وغیرہ فروخت ہونے کی ب ھی اطلاعات موصول ہو رہی ہے، اور اب ایک مرتبہ پھر اطلاعات کے مطابق حکومت چینی پر سبڈی دینے کا پروگرام تر تیب دے رہی ہے، جس میں مخصوص ڈیلرز عوما کو 85 روپے فی کلو چینی فراہم کریگی، ایک طرف اگر اس چینی کو حقیقی معنوں میں عوما تک رسائی دینے سمیت اس میں گڑ بڑھ روکنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اس سسٹم سے یو ٹیلٹی سٹورز کو دور رکھا جائے یا اگر مجبور ہو تو پھر ان لوگوں کو پابند بنا یا جائے کہ وہ نہ تو عوام کواضافی اشیاء لینے پر مجبورکریں۔علاوہ ازیں یہ بھی دیکھاجائے کہ اکثر ایسے مواقع پر سبڈائز ڈ اشیاء کی معیار کو انتہائی ناقص کیا جاتا ہے جبکہ یوٹیلٹی سٹورز میں کیمرے نصب کیے جائے تاکہ ان لوگوں کی کارکردگی اور سہولیات میں شفافیت بھی یقینی ہو علاوہ ازیں ان لوگوں کی جانب سے عوام کو سہولتکے عوض شناخت کی فراہمی اور سبڈائزڈ اشیاء لینے والوں کی فہرستیں ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرین ،جبکہ ڈیلرز کے معیار کے ساتھ ساتھ ان کے مقدار میں بھی کمی کے شکایات موصول ہو رہے ہے، اگر حکومت واقعتا عوام کو سہولیات کی فراہمی چاہتے ہین تو قومی خذانے سے عوام کے نام حاصل کئے فڈز کو حوص کے تجوریوں میں جانے سے روکنے کیلئے ب ھی اقدامات کرنے ہوں گے، اگر یو نہی سبڈی دی گئی تو اس کو عوام تک پہنچنے کیلئے فل پروف انتظامات بھی کرنے ہونگے۔