Official Website

”جملہ سکولز و کالجز ٹاپ پر ”

سبیل

26

کرک کے جملہ تعلیمی کارخانے ٹاپ پر ہیں کسی نے خواتین کو ٹاپ کیا ہے تو کوئی نہم کوئی گیارھویں اور کسی نے پری انجینئرنگ تو کوئی پری میڈیکل کا ٹاپر ہیں اور آج کے روز ہر ادارے میں جشن کا سماں سا کہیں آتش بازیاں ہورہی تھی تو کوئی قوم کے مستقبل کیلئے لیکچرز دیکر شہنائیاں بجارہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ بڑا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے یہ پرائیویٹ سکولز کا دھندہ تو فوراََ سے پیشتر ان لوگوں کے اشتہاری دعووں کو انتخابی دائو پیچ سمجھ کر نظر انداز کردینگے مگر اس موقع پر چلتے چلتے میں ان کا رخانوں کے کام مال (طلباء ) کے مسائل پر چند سطور لکھ دیتا ہوں کہ شاید حکام یا عوام میں سے کسی کی توجہ اس جانب مبذول ہوجائے ایک جملہ معترضہ کے طور پر کوہاٹ بورڈ کی سخاوت کی داد دونگا کہ وہ ہر بڑے کارخانے معاف کیجئے گا ادارے کو کوئی نہ کوئی لولی پاپ دیتا ہے ڈگریز کیلئے تو اب خیر سے سندھ جانے کی ضرورت نہ رہی اب یہ سب کچھ میرے ضلع میں ہوجاتا ہے اور اس میں ٹیکنیکل سائیڈ پر بہت سارے آسانیاں ہیں مگر ایک بات میرے سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ اب ان طلباء کو نصابی کتابیں پڑھانے کے بجائے گائیڈز کیساتھ منسلک کیا جارہا ہے ۔نوٹس کا دھندہ ہوتا ہے یہ اس لئے کہ حکومت سرکاری طور پر نہ تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو کتابیں فراہم کرتی ہے اور نہ ہی اب نصابی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہے تو پھر ان کوکہاں سے پڑھایا جائیگا یہ بات مجھے پریشان کئے پتہ نہیں کہ پرائیویٹ طلباء کے والدین اور سرپرستوں کو اس کی فکر ہوگی یا نہیں علاوہ ازیں یہ جو سب کے سب اول ہیں اس کا انجام کیا ہوگا اور پتہ نہیں یہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کیا کرتے ہیں پھر سوچتا ہوں کہ کون سرکاری سکول کے نیک نامی کیلئے بورڈ میں میلاپ کریگا ۔ مجھے یہ تعلیمی ترقی کا کھیل پتہ نہیں کیوں ہضم نہیں ہورہا ہے اور مجھے اس میں کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے اللہ کرے کہ یہ میری خام خیالی ہو ۔ رہیگا نام خدا کا ۔