Official Website

پاکستان آسان شکار نمیبیا کو تر نوالہ بنانے کیلیے تیار

44

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ناقابل شکست پاکستان ٹیم نے ابھی تک گروپ ٹو میں شامل تینوں بڑے برج الٹائے ہیں،روایتی حریف بھارت کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے اعتماد بلندیوںپر پہنچایا، اس کے بعد نیوزی لینڈ اور افغانستان کو بھی زیر کرکے دھاک بٹھائی۔ اب ٹیم کے پاس منگل کو ابوظبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں نمیبیا جیسے آسان شکار کو ترنوالہ بناکر سیمی فائنل تک رسائی پر مہر تصدیق ثبت کرنے کا موقع ہوگا،گرین شرٹس کو ٹاپ آرڈر میں کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کی خدمات حاصل ہیں۔ دونوں ایک عرصے سے تسلسل کے ساتھ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں،افغانستان کیخلاف بڑی اننگز نہ کھیل پانے والے محمد رضوان اس بار بھرپور کم بیک کیلیے بے تاب ہوں گے،فخرزمان جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ابھی تک کھل کر صلاحیتوں کے جوہر نہیں دکھاپائے،ان کیلیے بھی چھکے چھڑانے کا اچھا موقع ہوگا۔ابھی تک جدوجہد کرنے والے محمد حفیظ کی جگہ حیدر علی کو آزمانے کا آپشن موجود ہے، تجربہ کار شعیب ملک مڈل آرڈر میں استحکام کی علامت ہوں گے،آصف علی نے گذشتہ دونوں میچز میں مختصر اننگز میں خود کو میچ ونر ثابت کیا ہے۔شاداب خان اور عماد وسم اسپن کا جادو جگانے کے ساتھ جارحانہ بیٹنگ کا بھی مظاہرہ کرسکتے ہیں،پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف زبردست فارم میں ہیں،کمزور حریف کیخلاف حسن علی کو بھی ردھم میں آنے کا موقع ملے گا،اگر انھیں آرام دینے کا فیصلہ کیا گیا تو وسیم جونیئر کو آزمایا جا سکتا ہے،حتمی فیصلہ میچ سے قبل کیا جائے گا۔دوسری جانب نمیبیا نے کوالیفائنگ مرحلے میں سری لنکا سے شکست کے بعد نیدر لینڈز اورآئرلینڈ کو زیر کیا، سپر 12مرحلے میں اسکاٹ لینڈ کیخلاف فتح سمیٹی،اتوار کواسے افغانستان نے آؤٹ کلاس کیا، پاکستان کی بولنگ پاور کو دیکھتے ہوئے نمیبیا کی کمزور ٹاپ آرڈر سے بڑی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں،مڈل آرڈر میں گیرہارڈ ایراسمس،زان گرین اور جے جے سمٹ جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آل راؤنڈز ڈیوڈ ویزا بیٹ اور بال سے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں، روبن ٹرمپلمین پیس بولنگ سے مشکلات پیدا کرنے کے اہل ہیں، جان فریلنک اور جے جے سمٹ بھی ساتھ دینے کیلیے تیار ہوں گے،جان نکول لیگ اسپن سے کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ابوظبی میں ابھی تک رنز بنانا آسان نہیں رہا، حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں یہاں پہلی اننگز کا اوسط ٹوٹل128رہا ہے،ہدف کا تعاقب کرنے والی 6 ٹیمیں فاتح رہیں، 2بار پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں سرخرو ہوئی ہیں، اسپنرز پچز کا زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں،اوس کے پیش نظر ٹاس جیتنی والی ٹیم پہلے بولنگ کو ترجیح دے گی۔پاکستان ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی بار ’’کرکٹ بے بیز‘‘ نمیبیا سے ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل رہی ہے۔یاد رہے کہ دونوں ٹیمیں اس سے قبل صرف ایک بار 18سال قبل کسی انٹرنیشنل میچ میں مقابل ہوئی تھیں،گرین شرٹس نے ون ڈے فارمیٹ کے ورلڈکپ 2003میں نمیبیا کو 171رنز سے شکست دی تھی۔آل راؤنڈر شعیب ملک کا کہنا ہے کہ مسلسل 3میچز جیتنے کے بعد ٹیم کا مورال بلند ہوگیا، مگر نمیبیا سمیت کسی بھی حریف کو آسان نہیں لے سکتے، ہم پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔انھوں نے کہا کہ تمام کھلاڑی کپتان کو بھرپور سپورٹ کررہے ہیں، ٹیم کا ماحول زبردست بن چکا،کوشش ہوگی کہ فتوحات کا تسلسل برقرار رکھیں، نمبییا سے میچ کیلیے ہم کچھ مختلف نہیں سوچ رہے، ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کوئی ٹیم آسان نہیں ہوتی، اس لیے کوئی خطرہ مول نہیں لیاجاسکتا، تینوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی سے ہی میچز جیتتے جاتے ہیں اورہماری کوشش ہوگی کہ غلطیوں کو نہ دہرائیں اور عمدہ کھیل پیش کریں۔