Official Website

احساس کفالت میں وصولی کے الزامات کی تحقیقات کی جائے

اداریہ

30

کرک کی سر زمین پر اربوں روپے کے کروڈ اائل چوری کے تحقیقات منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے اور نہ ہی سائل کنزرویشن کی ٹینکی ڈیم کے بارے میں کچھ پتہ چلا یہاں فنڈز ہڑپ کرنے اور اندھیر نگری کی ایسی گڑھے ہین جو بھرتے ہیں نہ ہی دکھائی دیتے ہے، ایسے میں اگر احساس کفالت کے تحت خواتین سے وصولی کے عوض وصولی کی جاتی ہے تو کون نوٹس لینے والا معمول کے واقعات ہیں، ہر نئے قسط پر یہ رونا رویا جاتا ہے ایک دو مرتبہ کمپنیوں کے مقامی فرنچائز مالکان کو سر زمین کی گئی مگر پھر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ سر زمین گڈی خیل پر سیاست کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا وہ ہر لحاظ س ے قبل آفسوس ہے، کہ اولزکر تو سر زمین پر پہلی مرتبہ خواتین کے نام پر سیاست کی گئی، پولیس والوں کی اکثریت گندا گیر لوگون کی ہے اور پھر موجودہ ایس ایچ او شاہ سلیم تو متنازعہ ہے اور یہ ہر جگہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ خبروں کی زینت بنے رہتےہ یں، مندر کیس نے تو موصوف کے شہر کو چار چاند لگا دیئے ، میں طرفداری پولیس کی نہیں کر رہا ہوں کہ ان لوگوں کی منشیات فہم کی حقیقت بھی اب کھل کر سامنے آ گئی ہے، مگر اس معاملے میں اتنا واویلا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، علاقہ ہی کے کچھ خواتین نے احساس کفالت پروگرام میں وصولی کے حوالے سے تحریری درخواستیں دی تھی جن پر آفسران بالا اور تحصیل تخٹ نصرتی کے انتظامی سر براہ سے مشاورت کے بعد مقدمہ درج کیا گیا، اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا،ہے اس کے بعد مشران علاقہ میدان مین آتے ہیں اور احساس کفالت پروگرام کے ادائیگی نظام کو شفاف قرار دیتے ہوئے پولیس پر کاروئای کرنے کے حوالے سے الزامات عائد کرتے ہوئے بھتہ مانگنے کا الزم عائد کیا اور احتجاج شروع کر دیا جس کے مقابلے میں مزید مشران آئے اور ان لوگون نے سابقہ مشران کو تنقید کا نشانہ بنا یا اور بے عزتی قومی مشران نے ایک دوسرے کی کی ہے، وہ سب کے سامنے ہیں مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ اس پروگرام کے تحت جب اس کا نام بے انکم سپورٹ تھا یہ الزام عائد کئے جا رہے ہیں کہ کہ نام بدلنے کے ساتھ تبدیلی کے بعد زیادہ ہوئے ہیں، پورا کرک جانتا ہے کہ اس میں پیسے وصول کئے جاتے ہیں پھر مشران کو کیا ضرورت تھی کہ وہ عوام سے جبری وصولی کی حمایت میں نکل آئے، یہ ایک حقیقت کہ موبائل کمپنیوں کے ریٹیلر با قاعدہ احاس کفالت پروگرام میں وصوللی کرتے اب ضلعی انتظامیہ کو چاہےے کہ چوری کے اوپر سینہ زوری کے بعد اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور غریب عوام سے زکواة کے پیسون مین ششوت لینے والوں کے خلاف کاروائی کرین چاہے وہ ریٹیلر ہو یا پھر پولیس اہلکار کوئی بھی اور ہو۔