Official Website

کوہاٹ‘چچا کے قتل کے شبہ میں بھتیجوں کی فائرنگ‘خالہ کو خاوندد اور بیٹی سمیت قتل کر دیا

132

کوہاٹ (بیورو رپورٹ)کوہاٹ جنگل خیل میں چچا کے قتل کے شبہ میں بھتیجوں نے اپنی خالہ کو خاوند اور بیٹی سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا۔تہرے قتل کی اس واردات میں ملوث چار نامزد ملزمان کے خلاف تھانہ جنگل خیل میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔واردات میں ملوث مبینہ ملزمان فوری طور پر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ہیں جنکی تلاش کیلئے پولیس نے انٹیلی جنس بیسڈ چھاپہ مارکاروائیاں شروع کردی ہیں۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ سہیل خالد،ایس پی آپریشنز ضیاءاللہ،ایس پی انوسٹی گیشن سید عنایت علی شاہ اور بھاری پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور کرائم سین کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کے احکامات جاری کئے۔تفصیلات کے مطابق کوہاٹ کے مضافاتی علاقہ جنگل خیل کے موضع محلہ ایس پی سکندر خان میں سوموار کی صبح تہرے قتل کی واردات رونما ہوئی جہاں مبینہ ملزمان ندیم،نوید پسران بادشاہ خان عرف گامو، آصف اور اصغرخان پسران گل خان ساکنان جنگل خیل نے گھر کے اندر فائرنگ کرکے اپنی سگی خالہ جمیلہ بی بی اسکے خاوند ہارون خان اور بیٹی لیلہ بی بی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔واردات کے بعد ملزمان فوری طور پر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے جبکہ مقتولین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔ادھر تہرے قتل کا مقدمہ مسماة صفہ بی بی دختر ہارون خان کی مدعیت میں تھانہ جنگل خیل میں چار نامزد ملزمان ندیم،نوید،آصف اوراصغر خان ساکنان جنگل خیل میں درج کرلیا گیا۔مدعی مقدمہ نے پولیس کو دئیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گھر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ موجود تھی کہ مبینہ ملزمان نے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے انکے والد، والدہ اور ہمشیرہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔واقعے کی عینی شاہد اور مدعی مقدمہ نے بتایا کہ چند یوم قبل انکے مامو اور ملزمان کے چچا یوسف شنواری کا قتل ہوا تھا جسکے قتل کا شبہ ملزمان ان پر کررہے تھے اور اسی رنجش پر ملزمان نے تہرے قتل کی واردات برپا کی ہے۔ ادھر واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ سہیل خالد دیگر پولیس حکام اور بھاری نفری کے ہمراہ فی الفور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور جائے واردات کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے موقع پر موجود انوسٹی گیشن حکام کو تمام شواہد محفوظ بنانے کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کئے جبکہ واقعے میں ملوث ملزمان کی ہر قیمت پر گرفتاری عمل میں لانے کی سختی سے احکامات جاری کئے گئے۔پولیس نے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ چھاپہ مار کاروائیاں شروع کردی ہیں اور ملزمان کے گھروں سمیت ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔