Official Website

مسلح مظاہرین شاہ عبدالعزیز الزامات کے زد میں

سبیل

31

کرک میں اکثریتی فورسز سے ریٹائرڈ لوگوں کی ہے، اور اکثر تعلیم یافہ ہونے کیوجہ سے یہاں انٹی وفاق کی سیاسی جماعتوں کو بھی یہاں پنپنے موقع کم ہی ملتاہے اور یہ باتیں ان دی ریکارڈ ہے کہ کرک میں پی ٹی ایم جیسے دیگر تنظیموں کو کرک میں پنپنے کا موقع میسر نہیں ہوتے ہیں اور عوام سمیت خواص میڈیا اور سوشل میڈیا پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ تا ہے، اور ایسا ہی کچھ موجودہ احتجاج کیدوران بھی ہوا لیکن افسوس کہ کچھ نا عاقبت اندیش لوگ فضول قسم کے منطق گھڑ کر اس کو ریاست کے اندر ریاست کے قیام کی باتیں کرکے کرک کے امن کے ساتھ من گھڑت قسم کے کہانیاں بنا کر چسکے لے رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ کرک کے لوگ بے شک مذہب اور روایات پسند لوگ ہیں، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کرک کے عوام امن اور قانون پسند بھی ہے، لہٰذا یہاں طالبات ٹائپ کے کسی گروہ یا پھر کسی سر گرمی کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی شاہ عبدالعزیز مجاہد اس طرز کے لیڈر ہے ایک روحانی پیشوا کے بیٹے ہونے کے علاوہ خود بھی امت کے اسلاح کیلئے سر گرم عمل ایک نرم خو اور وفاق پرست جمہوریت پر یقین رکھنے والے سچے پاکستانی ہے، اس کا اقدام غیر ضروری، قانونی اور اخلاق قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اسے ہر گز دہشتگردانہ یا پھر ر یاست مخالف ایجنڈے سے جوڑنا دراصل ان کے سیاسی مخالفین کی سازش ہے، یقینا کرک کے سر زمین پر شاہ صاحب کے خاندانی احترام اور عقیدت مسلمہ ہے ان کے ہزاروں شاگرد اورمریدین کے دلو میں ان کیلئے جذبہ عقیدت موجود اور اُسی جذبہ عقیدت کے تحت پولیس کو ہاتھ نہ لگانے کا کہا گیا ہے، جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ شاہ عبدالعزیز مجاہد اس قسم کے لیڈر یا کر دار کے سیاستدان ہے، وہ وفاقی تحقیقاتی اداروں کے زیر تفتیش رہ چکے ہے، وہ اس حوالے سے عدالتوں میں مقدمات بھگت چکا ہے، تاہم دو ٹوک لفظوں میں جرات مندانہ انداز سے کھری بات اُس کو باغی بنا دیتے ہیں، اور آخر میں شاہ صاحب پر اس قسم یک الزامات کچھ اثر اور معنی نہیں رکھتے ہین۔ اس دوران واقعی ڈی پی او کرک کا کر دار مصلحانہ اور علاقائی روایات سمیت معروضی صورتحال کے حوالے سے انتہائی پیشہ ورانہ تھا، اور کمال مہارت کے ساتھ قانونی رٹ ب حال رکھتے ہوئے معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹائے آئے ہیں، دھرنا کے دوران ان کے موقف کی طرف تو بھائی وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا کہ دھرنے میں تحصیل کرک سے عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی، طرز سیاست اور احتجاج کے طریقہ کار جائز مگر شاہ عبدالعزیز کی شخصیت اور حیثیت مسلمہ ہے، ویسے پارٹ کے اندر ٹکٹ کے حصول کیلئے مقابلہ ہے، رہے گا نام خدا کا