Official Website

کوئی جواب ہے تحریر محمد نواز خٹک

سبیل

25

یہ قدرت کا ایک عجیب سے کھیل ہے کہ جس مٹی کے سپنے میں تیل تیل و گیس کے ذخائر ہیں اور اس کے آس پاس کے آبادیاں انتہائی کمزور اور پسماندہ ہیں انسانیت کے لحاظ سے تو سب برابر ہیں مگر سہولیات اور طرز زندگی کے حوالے سے وہ لوگ جو بہت محروم بلکہ مجبور ہوتے ہیں اور ہر دور میں ظلم لوگ مظلوم کے حقوق کے اوپر ہی بڑی بڑی عمارتیں قائم کی جاتی ہے اور الساہی بانڈہ داو¿دشاہ کے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے کیا جارہا تھا اور پیداواری علاقوں کے حقوق پر صابر آباد میں محلات تعمیر ہورہےہے لیکن تحریک انصاف کے موجود دور حکومت کے ساڑھے تین سالوں میں تو جبر پیداواری علاقوں اور ان کے عوام کے ساتھ کیا گیا یا پھر اس دور میں رائلٹی کے ساتھ سائل کنزرویشن ایریگیشن کے کے ڈی اے سمیت دیگر لاوارث محکموں کے ذریعے جو بندر بانٹ اور اندر کیا گیاہے اس کی تو تاریخ میں کئی مثالیں نہیں مل رہی ہیں اور سب سے بڑھ کر کہ اب تو کمپنیاں بھی ہمارے مالکان ممبران اسمبلی کو راضی رکھنے کے لیے قانون کو پیروں تلے روندرہے ہیں اور ان لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں ہیں اس دور میں پروڈکشن بونس تک رقم لیز ایریا کے بجائے کہیں اور منتقل کیا گیا ہے اور کمپنی کام سمیت آر سی او جی ڈی سی ایل نے بھی بلوں دستخط کر دیے ہیں اور تو اور اب رائلٹی کی مد میں ملنے والی رقم کرک عوام کے خلاف آپریشن کرنے کے لئے ادا کرنے پڑ رہے ہیں یقین عوام کو بھی کفران نعمت سزا مل رہی ہے مگر یہ عوام کے نام پر تجوریاں بھرنے والوں کے بارے میں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اور ہم ظریفی یہ ہے کہ پیداواری علاقوں لیز ایریا سے کوئی بھی تو انا آواز نہیں ہے جو کہ اپنے لوگوں لوگوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑ سکے کے ادھر موجود ہیں کچھ تخت صابر آباد کے کھ گماشتے جن کی قیادت کے باعث اس حالت یہاں تک پہنچ گئی ہیں کہ تیل گیس کے دریا کی اوپر آباد لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے پانی کی بھیک کی خاطر گھر کے باہر ڈرم رکھنا پڑتا ہے وہ بھی اگر زبان کھول دی جاتی ہے تو اولاد یزید کے پیروکار پانی بند کر دیتے ہیں ان لوگوں کے حقوق غصب کرنے والوں کو نہ خوف خدا ہے نہ ہی خوف مخالفت تو کیا کبھی ان گونگوں کو زبان مل سکے گے یا یوں ہی یہ بے چارے لوگ وسائل کے باوجود بھی مسائل کے دلدل دے رہیں گے یہ سوال سب کے ذہن میں نہیں اٹھتے ہی سوال مجھے پریشان کیا ہوا ہے کیا کسی کے پاس اس کا کوئی جواب ہے رہے گا نام اللہ کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔