
وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 فیصد تک فنڈز مختص کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔
آئی ایم ایف جائزہ مشن بجٹ سازی پر حتمی مشاورت کے لیے آئندہ ماہ پاکستان آئے گا، وفد کے ساتھ اگلے مالی سال کے لیے مجوزہ اہداف پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
آئی ایم ایف کو آن بورڈ لے کر اگلے مالی سال کے لیے مجموعی بجٹ کا حجم، جی ڈی پی کا ہدف، ٹیکس وصولیوں کا ہدف، بجٹ خسارے، پی ایس ڈی پی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اور ڈیبٹ سروسنگ سمیت دیگر اہداف فائنل کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں غیر ضروری ٹیکس چھوٹ بھی مزید ختم کی جائے گی اور تمام اہداف آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ بینچ مارکس کے مطابق رکھے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف پی سی سی آئی اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، تاجر تنظیموں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے موصول ہونے والی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان تجاویز کی روشنی میں اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کے مسودے کی تیاری پرکام جاری ہے۔